ندی ہے سُوکھی بھرے پیار سے گگر کوئی
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 98
پسند: 0
ندی ہے سُوکھی بھرے پیار سے گگر کوئی
دکھا دے پھر سے مرے درد کا نگر کوئی
...
خموشی چھا گئی ، سنّاٹا لے گیا سبقت
سُنی نہ چاپ نہ آواز در بدر کوئی
...
مری وفا ہی نہ تیری وفا کا مول ہوئی
جلائے پھر سے بُجھی آگ کا جگر کوئی
...
سُنا ہواؤں کو قصّے غمِ زمانہ کے
سفر میں تیرا نہیں ہم سفر اگر کوئی
...
ملال اور ندامت ہے تیرا سرمایہ
رہا عصیمؔ نہ اِس جا ترا اگر کوئی
واپس جائیں