چِڑتے ہیں وہ بھی ذِکر سے دَیروں کے آجکل
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 96
پسند: 0
چِڑتے ہیں وہ بھی ذِکر سے دَیروں کے آجکل
سُنتے ہیں سُر بکھر گئے بھیروں کے آجکل
...
جانے ہمارے شہر کے سائے کِدھر گئے
جلنے لگے ہیں زخم بھی پَیروں کے آجکل
...
بُلبل اَدائے گُل کو کرے کِس طرف تلاش
گُلشن میں راج ہوتے ہیں بَیروں کے آجکل
...
کیسے تمہاری چشمِ کرم کا یقین ہو
تُم کھیلتے ہو ہاتھ میں غیروں کے آجکل
...
بزمِ عصیمؔ بھی نہ ہو مستانہ وار کیوں
گُلشن میں نعرے خاص ہیں خیروں کے آجکل
واپس جائیں