پائی ہے وہ نظر جو غلط آشنا نہیں
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 91
پسند: 0
پائی ہے وہ نظر جو غلط آشنا نہیں
میری نظر میں تجھ سا کوئی دوسرا نہیں
...
ہم کو فریبِ مرہمِ وعدہ نہ دیجئے
زخمِ فراق ہے کہ ابھی تک بھرا نہیں
...
بارش میں ساری رات کوئی بھیگتا رہا
پھر بھی غبارِ چشمِ تمنّا چھٹا نہیں
...
محفل سے اُٹھ کے آج وہ ایسے چلا گیا
جیسے کِسی سے اُس کا کوئی واسطہ نہیں
...
گذری ہے ایک عمر یونہی اضطراب میں
اور وجۂ اضطراب کوئی پوچھتا نہیں
...
چارہ گروں کے بس میں کہاں ہے مِرا علاج
مَیں وہ مریضِ عشق ہوں جس کی دَوا نہیں
...
وہ پھُول کیا جو دعوتِ ذوقِ نظر نہ دے
وہ دِل ہی کیا جو مظہرِ بُوئے وفا نہیں
...
تھا رات کی قبا میں جو اِک روشنی کا پھُول
آنگن میں اپنے دِل کے ابھی تک کھِلا نہیں
...
کب سے سسک رہا ہوں سرِ راہ اے عصیمؔ
مَیں جِس کا منتظر ہوں اُسے کچھ پتہ نہیں
واپس جائیں