ہو احتسابِ سوزِ دروں کچھ عجب نہیں
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 96
پسند: 0
ہو احتسابِ سوزِ دروں کچھ عجب نہیں
دِل کا گداز دِل کے سکُوں کا سبب نہیں
...
اب میکدے میں پھر سے چراغاں کریں گے ہم
اِس دھُندلے شہر میں کوئی سوز و کرب نہیں
...
اِک سانولی سی شام کے آنچل کی آگ سے
دُودِ چراغِ دِل بھی فزوں آج شب نہیں
...
مستی میں دِل جلا کے وفا ڈھونڈنے چلے
تیرہ شبی میں اپنا جنوں بے سبب نہیں
...
خواہش ہے ہر سکون کی وادی کو توڑ دوں
پر دِل میں آندھیوں کے فسُوں مضطرب نہیں
...
دیتے ہیں ٹھنڈی چھاؤں سبھی پیڑ دھوپ میں
زردی زمین کی بھی مگر بے سبب نہیں
...
ہم زخم اُن کو اپنے دِکھاتے رہے عصیمؔ
محسوس جن کو ہمسفروں کا قُرب نہیں
واپس جائیں