بُلا لیا بھی کسی نے اگر تو جا نہ سکے
جو فاصلے تھے مقدّر کے وہ مٹا نہ سکے
...
تمام عُمر سرِ دشتِ جُستجو گذری
سُراغِ نقشِ کف پا بھی اُن کا پا نہ سکے
...
وہ بے نقاب سرِ بزم ناز تھے لیکن
نقابِ حُسن ادب تھا کہ ہم اُٹھا نہ سکے
...
دِل و نگاہ پہ پہرے بٹھا دئیے ہم نے
کہ تیرے بعد کوئی دوسرا درا نہ سکے
...
تمہاری یاد سے ہے شہرِ آرزو روشن
حوادثِ غمِ دوراں اُسے بُجھا نہ سکے
...
ہاں ایک بھُول ہوئی تھی وہ یاد ہے اب تک
وہ بھُول بھُول بھی کیا تھی جسے بھُلا نہ سکے
...
کُچھ احتیاطِ زمانہ کُچھ احترامِ وفا
بچھڑ کے رو نہ سکے مِل کے مُسکرا نہ سکے
...
لگی جو دِل کی تو پھر دِل گی کو بھُول گئے
خود ایسی آگ لگا لی کہ پھر بُجھا نہ سکے
...
نجانے تیرے شکستہ دِلوں پہ کیا گُذری
جو تیرے شہر سے نِکلے پلٹ کے آ نہ سکے
...
بِکھر کے صُورتِ شبنم کیا چمن سیراب
یہ اَور بات کہ ہم اَبر بن کے چھا نہ سکے
...
اُڑے گی خاک سرِ راہِ آرزو اپنی
مسافتوں کا اگر بوجھ ہم اُٹھا نہ سکے
...
وہ راز راز ہی کیا جو کھُلے زمانے پر
وہ دَرد دَرد ہی کیا دِل میں جو سما نہ سکے
...
جلا کے ہم سے اسیروں کی جھونپڑی کو عصیمؔ
وہ پھر چراغِ محبت کبھی جلا نہ سکے