حدِ نگاہ بحرِ تلاطم بصر جہاں
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 94
پسند: 0
حدِ نگاہ بحرِ تلاطم بصر جہاں
اب دیکھئے ٹھہرتی ہے جا کر نظر کہاں
...
اے چشمِ شوق اب تو دریچوں سے جھانک لے
شاید برنگِ روشنی پہنچے اثر وہاں
...
کلیاں چمن میں پتّیاں بنتی ہیں اِس طرح
اپنا ہو جیسے سوزشِ غم سے جگر نہاں
...
ہر آرزو فریب کے دھوکے میں جل گئی
مِلتے رہے سُراب ہی پہنچی نظر جہاں
...
اے موجِ دِلربا ہمیں کُچھ سوچنے تو دے
دِل ٹوٹ کر شریکِ غزل ہے مگر کہاں
...
اپنے ہی نام دھر لئے، منسوب کر لئے
سب حادثے جو بن گئے تازہ خبر وہاں
...
بادِ صبا کی موج رُکے گی جہاں عصیمؔ
اپنی حیاتِ رفتہ کا ہو گا اثر وہاں
واپس جائیں