نظر پتھر ہوئی لوٹ آٓؤ ساجن
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 116
پسند: 0
نظر پتھر ہوئی لوٹ آٓؤ ساجن
اٹک کر رہ گئی دل کی دھڑکن
۔۔۔
جہاں اذہان کی باریکیاں ہوں
اُلجھتے ہیں وہیں احساس کے فن
۔۔۔
سمجھتے ہیں جو دل میں خود کو دانا
لٹاتے ہیں وہی الفاظ کے دھن
۔۔۔
میں نکلا آب و آتش سے اُلجھ کر
نہیں اب زندگی میں اور اُلجھن
۔۔۔
نہ حرفِ کرب نہ کوئی شکایت
عصیمؔ اب سمت میں اُتر نہ دکن
واپس جائیں