حمد
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 136
پسند: 0
حمد
۔۔۔
بارِ عصیاں سے اب رہائی دے
دے سماعت کہ کچھ سُنائی دے
۔۔۔
دل کی کھڑکی کا رُخ ہو تیری طرف
جس طرف دیکھوں تُو دکھائی دے
۔۔۔
میز کرسی کتابیں اور گل دان
دھول ہے خاک ہے صفائی دے
۔۔۔
تُو ہی نظروں کو روشنائی دے
اندھی آنکھوں کو کچھ دکھائی دے
۔۔۔
مَیں عصیمؔ اندھا اور گونگا ہوں
چشمِ بینا دے آشنائی دے
واپس جائیں