’’سال کے آغاز پر‘‘
ونسینٹ پیس عصیم
گیت
مطالعات: 132
پسند: 0
’’سال کے آغاز پر‘‘
...
ہوں امینِ موسمِ گُل نونہالانِ وطن
خوشبوئے تعلیم سے مہکیں سدا سر و سمن
...
عِلم ہی ہے باعثِ صد افتخار و انبساط
سرپرستی علم و فن کے گلستاں کی ہے نشاط
...
ہے دُعا یہ سال ہو سرچشمۂ اہلِ کمال
آشنا ہوں خالقِ کون و مکاں سے نونہال
...
امن کی بنسی بجے اور راحتوں کا ساز ہو
ہے تمنّا ہر کلی اِس گلستاں کا ناز ہو
...
دے الہٰی دولتِ بیدار ہر اِک فرد کو
تاکہ پہچانیں سبھی اِک دُوسرے کے دَرد کو
...
فیصل آباد اہلِ علم و اہلِ فن کا اِک بحر
لائقِ صد آفرین و صد مبارک یہ شہر
...
یہ تمنّا ہے عصیمؔ اِس سال کے آغاز پر
رُوح کی پاکیزگی ہو سُندرتا کے ساز پر
واپس جائیں