امن کا گیت
ونسینٹ پیس عصیم
گیت
مطالعات: 98
پسند: 0
امن کا گیت
...
کھیلیں آنکھ مچولی چاہے کھلیں گھوڑا ہاتھی
بنیں گے ہم تو ہر دُکھ سُکھ میں اِک دوُجے کے ساتھی
...
آؤ ساتھی دُنیا کو ہم امن کا گیت سُنائیں
اِک دُوجے کا ہاتھ پکڑ کر جھومتے گاتے جائیں
...
پُورب ، پچھّم ، اُتّر، دکھّن رہتے ہیں انسان
کہیں بھی ہوں یہ خاک کے پُتلے دو دن کےمہمان
...
ہم بھی انساں وہ بھی انساں دُنیا جن پہ بھاری
آؤ ڈھا دیں نفرت کی دیواریں باری باری
...
خود غرضی اور پاپ کے سانپ کو اَبدی نیند سُلا دیں
کھائیاں اور خلیجیں آؤ مِل کر بھرتے جائیں
...
دُکھیاروں کے دُکھ بانٹیں ہم پاکستانی بچّے
اَمن کی وادی کے رکھوالے قول و عمل کے سچّے
...
پیار عصیمؔ بڑھے پھولے گا پیار کے گیت سُنائیں
اَمن کی اُمیدوں سے جھِلمل کرتے دیپ جلائیں
واپس جائیں