کچھ تو سوچو ذرا
بیتی گھڑیاں، بیتے دن بھی کبھی
لوٹتے ہیں بھلا؟
گردشِ آسماں اب الٹ پھیر میں
چل پڑی ہے!
تم ذرا سوچ لو ۔۔۔ کہ کہیں مصلحت کی
چھُپی آگ ۔۔۔ قربت کے جادوئی
دھوکے کی پرچھائیوں سے ۔۔۔
نکل کر ۔۔۔ تمہارے وجودِ تبسم کو
خاکستری نہ بنا دے۔۔۔
تمہارے تبسم زدہ رنگ ۔۔۔
یہ چمک۔۔۔
طاقِ افسردہ میں، جلتے بجھتے دئیے کی
چراغِ سحر کی لپک ہی نہ ہو!
یہ بھی پوچھو ذرا۔۔۔
اپنے اندر کے انسان سے ۔۔۔
امن کی تمہی پیامبر ۔۔۔
ہاں تم ہی، خود تو نہیں کہیں!
تو پھر اُٹھو!
توڑ دو بڑھ کے رسموں کی کہنہ سی
اور زنگ خوردہ سی ۔۔۔ زنجیر کو
زہر میں ہر بجھے اور جلتے ہوئے
نفرتوں کے ہر ایک تیر کو ۔۔۔ توڑ دو!
آؤ مل کر عزیزو۔۔۔ دعا یہ کریں