قربتوں کی، محبت کی تجدید میں
پھر سعادت ملی
تم جو اک زرد ٹہنی سے چمٹے ہوئے
لرزتے زرد پتے کی مانند
آوارہ جھونکوں کی زد میں
پریشان احوال تھے
کپکپاتے رہے۔۔۔جیسے
راتوں کی ایک شبنمی گرد بھی
سرد موسم کے ہمراہ کہیں کھو گئی!
اب ۔۔۔ یہ کیا معجزہ ہو گیا؟
کہ چہرہ تمہارا دمکنے لگا
خوف محسوس ہونے لگا ہے
لگ رہا ہے
کہ جیسے کسی ناشنیدہ سے نادیدہ
خاموش طوفان میں
پھر سے تم گھر گئے ہو!
یہ بھلا کیوں ہوا؟ کیسے ممکن ہوا
کچھ کہو تو سہی۔۔۔ کچھ تو بتلاؤ تم