ماں کی ممتا
ونسینٹ پیس عصیم
گیت
مطالعات: 100
پسند: 0
نرم گداز ترے ہاتھوں سا لمس کہاں
تیری پیار بھر آنکھوں سا عکس کہاں
۔۔۔
تُو پر تو ہے نورِ الہٰ کی شفقت کا
دل کے آنگن میں اک عکس محبت کا
روئیں روئیں میں تجھ سے پیار کا رقص کہاں
۔۔۔
تیری تھپکی تیری لوری سر ساگر
جیسے چھلکتی جائے جل سے اک گاگر
ماں تجھ جیسا سارے جہاں میں درس کہاں
۔۔۔
پیار، دلاسا، پرسہ سب کچھ ملتا ہے
چاند بھی جیسے دن اور رات نکلتا ہے
ماں تجھ جیسا اور خدا سا ترس کہاں
۔۔۔
طوفانوں میں ڈھال عصیمؔ کی بن جائے
درد و غم کے آگے وہ ہے تن جائے
ماں کی ممتا جیسی ہمت انس کہاں
واپس جائیں