طوفان مچلتے ہیں
ونسینٹ پیس عصیم
گیت
مطالعات: 83
پسند: 0
دریا سے جب دریا اُمڈتے ہیں
لہروں کے طوفان مچلتے ہیں
۔۔۔
پانی میں اک آگ اُترتی ہے
سورج پہنے شام جو ڈھلتی ہے
ہولے ہولے سائے بڑھتے ہیں
لہروں کے طوفان مچلتے ہیں
۔۔۔
ندیا میں جب چاند اترتا ہے
دل سینے میں خوب اچھلتا ہے
جیسے رات میں جگنو اڑتے ہیں
لہروں کے طوفان مچلتے ہیں
۔۔۔
موسم جب پھولوں کا آتا ہے
شاخوں پر بھنورا منڈلاتا ہے
دل کے صحرا جلنے لگتے ہیں
لہروں کے طوفان مچلتے ہیں
۔۔۔
پچھلی رات کے ٹھنڈے جھونکوں میں
دمکتے ہیں جب موتی پلکوں میں
آنکھوں میں پھر سپنے سجتے ہیں
لہروں کے طوفان مچلتے ہیں
۔۔۔
اک اک آہٹ دل دھڑکاتی ہے
آس کے دیپ یہ ریت جلاتی ہے
پت جھڑ میں پتے جو کھڑکتے ہیں
لہروں کے طوفان مچلتے ہیں
واپس جائیں