دیکھ کے جن کو چمن زار بھی شرمائے ہیں
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 124
پسند: 0
دیکھ کے جن کو چمن زار بھی شرمائے ہیں
دِل کے دروازے تلک اُن کے قدم آئے ہیں
...
ہے تِرے پیار کی معراج یہ ابنِ مریم
دامنِ شب میں سویرے جو اُتر آئے ہیں
...
رحمتیں جوش میں آئیں جو نوازش بن کر
چاند تارے ہیں کہ آنگن میں اُتر آئے ہیں
...
تشنگی من کی بجُھی بن گئے گلشن صحرا
بحرِ بے ضبط، محبّت کے اُمڈ آئے ہیں
...
غمِ عصیاں کو اُٹھانے کا جو یارا نہ رہا
بن کے غم خوار مسیح، آپ چلے آئے ہیں
...
شبِ تاریک میں اَب کوئی نہیں سہمے گا
روشنی اوڑھے شہنشاہِ نجم آئے ہیں
...
گھُل گیا کیسا فضاؤں میں ترنّم سا عصیمؔ
کِس کی بارات اندھیروں میں سجا لائے ہیں
واپس جائیں