مے کشی تھی کہ دِل کشا تھا خمار
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 116
پسند: 0
مے کشی تھی کہ دِل کشا تھا خمار
اک خیالِ جمال صورتِ یار
۔۔۔
تر و تازہ ہے آرزو دِل میں
پھر سے اک بار لوٹ آئے بہار
۔۔۔
سوسن ایسی ملے کہ برسیں گلاب
نرگسی سحر ہو تو لالہ زار
۔۔۔
ہمنوا بے نوائی ہو جائے
ہو رقیب اب تو صاحبِ کردار
۔۔۔
راہِ اُمید کچھ تو دِکھلا دے
کر حقیقت میں میرا بھی تُو شمار
۔۔۔
نیند ہی میں سہی ملے تو سہی
کروٹوں کو بھی اب کچھ آئے اقرار
۔۔۔
وقت کی دُھول نے مٹایا جسے
وہ نظر پھر نہ آیا مشتِ غبار
واپس جائیں