دل حیلہ باز ہے جو سعادت نہیں ہوئی
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 116
پسند: 0
دل حیلہ باز ہے جو سعادت نہیں ہوئی
اس واسطے ہی دیدِ قیامت نہیں ہوئی
۔۔۔
لکھے گئے پڑھے گئے اوراق عمر بھر
پھر بھی کتابِ فن میں ضخامت نہیں ہوئی
۔۔۔
تحریک دل ستا ہے عنایت ہے آپ کی
لیکن دلِ حزیں میں حرارت نہیں ہوئی
۔۔۔
محوِ نوا ہوئے تو بہت غور سے سبھی
پر فطرتاً ہی ہم سے امامت نہیں ہوئی
۔۔۔
ہائے عصیمؔ کیسی نہ محرومیاں رہیں
پر جستجو کو چنداں ندامت نہیں ہوئی
واپس جائیں