اپنے جذبات کی لہروں کو چھپاؤں کیسے
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 115
پسند: 0
اپنے جذبات کی لہروں کو چھپاؤں کیسے
کیسے خاموش رہوں خود کو دباؤں کیسے
۔۔۔
میں کہ مدہوش ہوں اک جام محبت پی کر
گیت نفرت کا مری جان میں گاؤں کیسے
۔۔۔
جھوٹ تو جھوٹ ہے سچ کیسے اسے مانوں میں
فرق ہو ارض و سما سا تو مٹاؤں کیسے
۔۔۔
ہے سفر سودا محبت کا وفا کا نادان
سیکھنا ہی جو نہ چاہے تو سکھاؤں کیسے
۔۔۔
میز پر چند کتابیں ہیں اور اک بجھتا چراغ
خط ہیں جو دل میں دھرے ان کو جلاؤں کیسے
۔۔۔
دن گئے بیت گئے بیت نہ اب لوٹیں گے
درد کے قصے جو گزرے وہ سناؤں کیسے
۔۔۔
میں عصیمؔ اک عجب الجھن میں گھرا ہوں کب سے
یہ تو صحرا کی ہے اک پیاس بجھاؤں کیسے
واپس جائیں