رہِ اُلفت کا ہے اعجاز کہ ہم ملتے ہیں
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 107
پسند: 0
رہِ اُلفت کا ہے اعجاز کہ ہم ملتے ہیں
پھول گلشن میں بہاروں کے بہم کھلتے ہیں
۔۔۔
جل ترنگ آہ کے سُر سے جو نوا اُٹھتی ہے
یہ صدا ہے رگِ جاں کی جو قدم اُٹھتے ہیں
۔۔۔
کہیں ابرو کا اشارہ کہیں شمشیر زنی
خُوں بہے آنکھ سے جب زخمِ ستم سلتے ہیں
۔۔۔
اشکِ غم ناک جو چھلکیں تو جنھیں سیلِ دعا
یہ وہ ساعت ہے کہ جب داغِ گنہ دُھلتے ہیں
۔۔۔
خُونِ دل عشق کی رگ رگ کا سریلا نغمہ
حُسنِ احساس سرِ بزم صنم جھکتے ہیں
۔۔۔
چپ رہیں کچھ نہ کہیں، اور فقط سنتے رہیں
یہ ہو رفتارِ محبت تو صنم ملتے ہیں
واپس جائیں