بوتل خالی تہ میں تلچھٹ آدھا گھونٹ شراب
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 107
پسند: 0
بوتل خالی تہ میں تلچھٹ آدھا گھونٹ شراب
بھوکے پیاسے مے خواروں نے لوٹا نُور شباب
۔۔۔
بوتل کی حالت تو دیکھو جیسے اُجڑی نار
ریزہ ریزہ بکھرے جیسے ٹوٹ کے کوئی شہاب
۔۔۔
دیس راج کے سوم رسوں سے کرتے ہیں لبریز
شیش محل میں رکھ کر ظالم کرتے رہیں حساب
۔۔۔
بڑی بڑی باتوں منصوبوں سے جھنجھٹ نمٹائیں
بُنیں سیاست کا ریشم دیں وعدوں کے کم خواب
۔۔۔
چربہ تحریروں نظموں پر لوٹیں داد ہی داد
شعر و سخن کے گلشن کے کہلاتے پھریں گلاب
۔۔۔
لطف و فیض اُٹھانے والے غضب کا فرض نبھائیں
توڑ کے برتن، گملے پیالے بنتے پھریں نواب
۔۔۔
سب بطلان چران ہوا کی واعظ کہتا جائے
ہر ایک شے سے چڑھا ملمع قیمتی آب و تاب
۔۔۔
وہی حقیقی راہِ وفا کے درد کی لذت جانے
دکھی غموں کے مارے دل کا سمجھے ہے جو خواب
واپس جائیں