جس نے مر مر کے زندگی پائی
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 117
پسند: 0
جس نے مر مر کے زندگی پائی
اُس نے گردش میں آشتی پائی
۔۔۔
مضطرب ہی رہوں سدا چاہوں
لطف نے تیری بے رُخی پائی
۔۔۔
رات بھیگی اور انتظار بڑھا
بے قراری نے بے کلی پائی
۔۔۔
خواب دیکھیں لپٹ کے مر جائیں
کیا شکیبائی وصل کی پائی
۔۔۔
ادب آداب پل میں چھوٹ گئے
مے کدے میں بھی تشنگی پائی
۔۔۔
آرزوئیں عصیمؔ پوری ہوئیں
بے نیازی نے روشنی پائی
واپس جائیں