عجب کہ خود ہی کو کیونکر ہے مَیں نے گھات کیا
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 109
پسند: 0
عجب کہ خود ہی کو کیونکر ہے مَیں نے گھات کیا
خُود اپنی ذات کو ہائے کمینِ ذات کیا
۔۔۔
خُدا معاف کرے میری اِس حماقت کو
بُجھا کے شمسِ مروت جو دِن کو رات کیا
۔۔۔
مجھے جو برملا کہنا تھا کہہ تو دیتا مگر
خموش خُود کو کیا نکتہ جو سماعت کیا
۔۔۔
وہ خواب وصل کا دیکھا جو ہجر کی شب نے
طلسمِ صبح سپردِ قلم دوات کیا
۔۔۔
دہک رہا ہے الاؤ عصیمؔ یادوں کا
مجھے جنُوں کی خجالت نے کیا ثبات کیا
واپس جائیں