دشتِ پیمائی ہے، مَیں ہوں
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 121
پسند: 0
دشتِ پیمائی ہے، مَیں ہوں
آبلہ پائی ہے، مَیں ہوں
۔۔۔
وحشتیں ہی وحشتیں ہیں
دشتِ تنہائی ہے، مَیں ہوں
۔۔۔
مضطرب دل، چشمِ نم ہے
ایک شکیبائی ہے، مَیں ہوں
۔۔۔
کچھ نہ سمجھے، کچھ نہ جانے
یہ شناسائی ہے، مَیں ہوں
۔۔۔
بند آنکھیں جلتے سپنے
شمع آرائی ہے، مَیں ہوں
۔۔۔
خار حاصل عمر بھر کا
میری رسوائی ہے، مَیں ہوں
۔۔۔
آہ سسکی رنج ماتم
سوچِ تنہائی ہے، مَیں ہوں
واپس جائیں