ہم تری اُجلی تمنّا کے حسیں چہرے ہیں
اے وطن تیری قسم، تیری قسم تیرے ہیں
...
تیری مٹی کی مہک میرا جہاں میرا جہاں
تیری موجوں کی روانی ہے مرا نغمۂ جاں
اب ترے خواب ترے خواب سبھی میرے ہیں
اے وطن تیری قسم، تیری قسم تیرے ہیں
...
سبز پرچم میں جھلکتا ہے بہاروں کا نشاں
چاند تارے میں چمکتی ہے محبت کی اماں
عزم و ہمت کے یہ عنوان سبھی میرے ہیں
اے وطن تیری قسم، تیری قسم تیرے ہیں
...
عدل و انصاف، محبت کا علم لہرائے
اے وطن تیری فضاؤں میں نظر دم آئے
تیری دمساز جبینوں پہ سجے سہرے ہیں
اے وطن تیری قسم، تیری قسم تیرے ہیں
...
تُو کہ آزاد وطن عالمِ ہستی کا ہے چاند
روشنی تیری زمانے میں نہ ہو گی کبھی ماند
کہکشائیں کئی مہتاب تجھے گھیرے ہیں
اے وطن تیری قسم، تیری قسم تیرے ہیں
...
جشنِ آزادی نئے عزم و وفا کی تجدید
قدرِ انساں کے یہی درد جگانے کی عید
پیار کے دیپ جلا تیرگی کے ڈیرے ہیں
اے وطن تیری قسم، تیری قسم تیرے ہیں
...
(مجموعۂ کلام ’’سُوکھے پتھر گیلی ریت‘‘ سے ماخوذ)