رنگ اور انگ
...
شامِ الم یا شامِ مُسرّت
آج کی شام کا نام ہے کیا؟
آؤ اِس سرمئی سی سُندر ،
شام کے آنچل میں چھُپ جائیں
میلی، اُجلی آنکھوں کے رنگوں کو دیکھیں
شام سویرے آتے جاتے رہتے ہیں
...
آنا جانا رِیت سہی اِس دُنیا کی ۔
آنکھوں کے کیوں رنگ بدلتے رہتے ہیں؟
سوچوں کے کیوں انگ بدلتے رہتے ہیں؟
دُنیا والو، خوشیوں سے سرشار رہو۔
مہکو، چہکو، سَدا سُکھی سنسار رہو ۔
رنگ اور انگ فقط وہ رکھنا
جو میراث میں پائے تُم نے
اُس ہستی سے جو خود سُکھ ہے ،
اور سُکھ دیتا ہے