سجدۂ شوق تھا پہنچے جو صنم خانے تک
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 95
پسند: 0
سجدۂ شوق تھا پہنچے جو صنم خانے تک
ورنہ ہم رِند فقط رِند تھے میخانے تک
...
شوقِ دیدار مٹاتے کہ سُناتے دِل کی
ایک اُلجھن میں رہے اُن کے چلے جانے تک
...
شدّتِ سنگِ رقیباں میں کمی کی خاطر
آپ بھی ہاتھ بڑھا دیجئے دیوانے تک
...
تشنہ لب گرمئی حسرت میں کچھ ایسے ترسے
دَم نکل جائے گا پہنچیں گے جو پیمانے تک
...
زخم بھر بھر کے کئی بار کھُلے ہیں ایسے
اب کے اِک بار بھی تڑپیں گے نہ مر جانے تک
...
ہم چٹخ جاتے جو پتھّر کے بنائے ہوتے
پھر سے اُمیدِ کرب لائی ہے بُت خانے تک
...
آس جب یاس کے آنگن میں اُتر آئے عصیمؔ
آپ سے گھر بھی تو بن جاتے ہیں ویرانے تک
واپس جائیں