ہو گئے سب بے بصر
کھو گئے سب پاؤں سر
تیل کا ٹینکر گرا
سڑک پر سونا بہا
نقشہ درد و الم
دیکھ غربت کے ستم
غرض پر ترس و رحم
مرگِ انبوہ جشنِ دم
لے اُڑا غربت قدر
جتنا تیل آیا نظر
ہاتھ جتنا بھی لگا
کنستروں میں لے اُڑا
اک شخص کو پھر کیا ہُوا
لوٹ مَیں پاگل ہُوا
خوش کن خزانہ پا لیا
سگریٹ اک سلگا لیا
تیلی اچانک گر گئی
اور آگ سی بھڑک اٹھی
شعلے سے اُٹھنے لگے
جسم پھر جلنے لگے
راہ تماشا گاہ ہوا
منظر جہنم زا ہوا
ہر طرف زندہ بدن
جلنے لگے تن زیر تن
درد دل کو کھا گیا
اک اندھیرا چھا گیا
سانحہ نمناک تھا
سینہ صد ہا چاک تھا
اے خُدا تُو کر کرم
پونچھ دے سب اشکِ نم
صبر کر دے تُو عطا
تھی لبوں پہ یہ دُعا