آمدِ ثانی
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 119
پسند: 0
آمدِ ثانی
...
وا ہے چشمِ دِل، اگر، تو طالبِ دیدار ہو
آمدِ سلطاں ہے غافل نیند سے بیدار ہو
...
دھُول چھا جاتی ہے کڑیل دھوپ کے سیلاب میں
روُح کا سُندر بدن جب جان سے بیزار ہو
...
آگ سی بھڑکے گی اور سارے فسُوں جل جائیں گے
دِل اگر شہرِ غزل میں شعلۂ انوار ہو
...
کر بھروسہ ابنِ مریم پر ہے اگر تو ناتواں
نُدرتِ ایماں سے تازہ دم تِرا کردار ہو
...
ٹُوٹ جاتے ہیں یقیناً سب غلامانہ فسُوں
رُوحِ عیسیٰ سے دِلِ پُرنفس گر بیدار ہو
...
رُوح کی تلوار تیرے ہاتھ کاگہنا بنے
رُو برُو تیرے خجل ناکامیٔ اغیار ہو
واپس جائیں