دل کی میلی چادر کو تُم دھو لینا
حزقی ایل سروش
غزلیات
مطالعات: 124
پسند: 0
دل کی میلی چادر کو تُم دھو لینا
یسوع کی سُولی کے نیچے رو لینا
1
شیش محل میں نقش بنانا چھوڑ بھی دو
پیار محبت سنگریزوں میں پرو لینا
2
غم کی رات کو خونِ مسیح سے روشن کر
صبح سویرے ساتھ مسیح کے ہو لینا
3
اہلِ ہوس جب گھیر لیں تجھ کو اے سروشؔ
اُس کی ذات میں اپنی ذات پرو لینا
واپس جائیں