اِک تاج بنا کے پرستش کا
حزقی ایل سروش
گیت
مطالعات: 85
پسند: 0
اِک تاج بنا کے پرستش کا
تیرے سر پہ سجاتے ہیں
نئے نغمے بھی نئی غزلیں بھی
تیرے چرنوں میں لاتے ہیں
...
تیرے نقشِ قدم یہ شمس و قمر
تیری راہ گزر یہ شام و سحر
ہم خوشیوں کے نئے پھولوں سے
تیری راہ سجاتے ہیں
...
سب تاج یسوع تیرے قدموں تلے
ساری دُنیا میں تیرا ہی دیپ جلے
ہم نگر نگر میں آشاؤں کے گیت سناتے ہیں
...
تجھ سے آباد دل کے گھرانے ہوئے
تیرے وعدوں سے روشن زمانے ہوئے
ہم قدم قدم پہ رحمت کے نئے گیت سناتے ہیں
واپس جائیں