کیسی تھی غمناک کہانی درد میں ڈوبا قصہ تھا
حزقی ایل سروش
غزلیات
مطالعات: 98
پسند: 1
کیسی تھی غمناک کہانی درد میں ڈوبا قصہ تھا
جس کا سن کر باغ کا ہر گل خون کے آنسو رویا تھا
...
موت کی وادی غم کا سورج اس کا یہی بس رستہ تھا
گلی گلی اور کوچہ کوچہ اس نے ہم کو ڈھونڈا تھا
...
اپنی سولی آپ اٹھا کر بازاروں سے گزرا تھا
کرب کی راہ میں کانٹوں پر وہ گرتا اٹھتا چلتا تھا
...
سب کا ساتھی سب کا پیارا ، آج صلیب پر تنہا تھا
اس کی سندر لاش کو لے کر اندھیاروں میں رکھا تھا
...
تیسرے روز مسیحا میرا ، بندھن توڑ کے جاگا تھا
دور پہاڑوں کی چوٹی پر دیپ لہو کا جلتا تھا
واپس جائیں