کیا کروں تعریف تیری مجھ میں دانائی نہیں
حزقی ایل سروش
غزلیات
مطالعات: 102
پسند: 0
کیا کروں تعریف تیری مجھ میں دانائی نہیں
دیکھیے بے تاب میں کچھ تابِ گویائی نہیں
1
تو خدا ہے اور انساں یہ میرا ایمان ہے
اس عجب حکمت کی انساں میں شناسائی نہیں
2
کس طرح تیرے قدم پر میں قدم کو رکھ سکوں
جانتے ہیں آپ بندے میں توانائی نہیں
3
اے میرے مصلوب میں اپنی اٹھاتا ہوں صلیب
بس یہی عزت ہے میری اس میں رسوائی نہیں
واپس جائیں