غم کا دیا جلا رکھا ہے
حزقی ایل سروش
غزلیات
مطالعات: 121
پسند: 0
غم کا دیا جلا رکھا ہے
آگ میں پھول کھِلا رکھا ہے
کیسی وفا اور کیسی محبت
ان باتوں میں کیا رکھا ہے
روتے ہو نہ ہنستے ہو تم
یہ حال کیا بنا رکھا ہے
دُکھ کے بعد ہی سُکھ آتا ہے
ہم نے دھوکا کھا رکھا ہے
کون اِس ہیرے کو پہچانے
مٹی میں جو دبا رکھا ہے
آنے والے کے رستے میں
ہم نے دیا جلا رکھا ہے
ہم نے سروشؔ اپنے جینے کا
ہر انداز نیا رکھا ہے
واپس جائیں