یہ آندھیاں اور ظلمتیں
حزقی ایل سروش
گیت
مطالعات: 109
پسند: 0
یہ آندھیاں اور ظلمتیں
سب روکیں گی تجھے بڑھنے سے
تاریکیاں اور وہشتیں
سب روکیں گی تجھے بڑھنے سے
۱
دکھ سہتا جا اور بڑھتا جا
مُسکاتا جا اور گاتا جا
مایوسیاں اور دہشتیں
۲
گھبرا نہ جا شرما نہ جا
کہیں رُک نہ جا اور جھک نہ جا
یہ اداسیاں اور آفتیں
۳
ابھی دُور ہے تیرا اپنا گھر
کب پہنچے گا ذرا جلدی کر
نااُمیدیاں یہ قیامتیں
۴
یسوع المسیح تیرا بادشاہ
تجھے لینے کو ہے وہ آ رہا
بے دینیاں اور گردشیں
واپس جائیں