وہ دکھوں کی آگ میں جلتا رہا
حزقی ایل سروش
غزلیات
مطالعات: 118
پسند: 0
وہ دکھوں کی آگ میں جلتا رہا
موت کے سایوں تلے چلتا رہا
۱
آزمائش کی گھڑی جب آ گئی
وہ دعائیں باپ سے کرتا رہا
۲
دوست سارے چل دئیے جب چھوڑ کر
ناصری سولی لئے بڑھتا رہا
۳
داستاں لکھ دو محبت کی سروشؔ
خون سے جو سر تا پا بہتا رہا
واپس جائیں