خداوند اپنے لوگوں میں آیا ہے
حزقی ایل سروش
گیت
مطالعات: 124
پسند: 0
خداوند اپنے لوگوں میں آیا ہے
پاک رُوح کا پہرہ ہر سُو چھایا ہے
وہ آیا ہے یسوع آیا ہے
...
دشمن سارے بھاگیں گے
بندھن سارے ٹوٹیں گے
کیونکہ اُس نے تخت اپنا
یہاں پر لگایا ہے
...
اندھی آنکھیں دیکھیں گی
مردہ رُوحیں جاگیں گی
زندگی میں اُمیدوں کی
شمع کو جلایا ہے
...
سولی پہ وہ موا ہے
وہی پیار کا رستہ ہے
جان بھی دی کلوری پہ
خون بھی بہایا ہے
...
ابدی جیون دینے کو
سچی خوشی دینے کو
اُس نے سارے انسانوں کو
اپنے پاس بلایا ہے
واپس جائیں