آسماں پہ شہر ہوگا، بادلوں کے پار ہوگا
حزقی ایل سروش
غزلیات
مطالعات: 115
پسند: 0
آسماں پہ شہر ہوگا، بادلوں کے پار ہوگا
زندگی وہاں پہ ہوگی، زندگی کا راج ہو گا
1
رنج و الم نہ ہوں گے ، ہر لب پہ نغمے ہونگے
ہر سمت خوشیاں ہونگی، ابدی جلال ہوگا
2
ماتم وہاں نہ ہوں گے، آنسو وہاں نہ ہوں گے
موت بھی وہاں نہ ہو گی، ابدی وصال ہو گا
3
بے دم کبھی نہ ہوں گے، بھوکے کبھی نہ ہوں گے
پیاس بھی وہاں نہ ہوگی ، ہر سو کمال ہو گا
واپس جائیں