میں مسافر سولیوں کا ، جاگتا ہوں رات دن
حزقی ایل سروش
غزلیات
مطالعات: 114
پسند: 0
میں مسافر سولیوں کا ، جاگتا ہوں رات دن
خون بن کے ہر طرف ، بہہ رہا ہوں رات دن
(۱)
تو نے ٹھکرایا ہے میری دار کو اب یاد رکھ
کب تو لوٹے گا یہی میں ، سوچتا ہوں رات دن
(۲)
تو اکیلا تھک گیا ہےدُور تیری منزلیں
ساتھ مجھ کو لے کے چل دے ، گا رہا ہوں رات دن
(۳)
کس قدر تاریک ہے یہ رہِ گزر تیری سروشؔ
اندھی نگری میں چراغاں ، کر رہا ہوں رات دن
واپس جائیں