دَرد کا ذائقہ بدلنا ہے
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 112
پسند: 0
دَرد کا ذائقہ بدلنا ہے
ہِجر کا سِلسِلہ بدلنا ہے
ساحِلوں سے یہ کہہ رہی ہے ہَوا
نائو نے ناخُدا بدلنا ہے
اِک تَسلسُل سے مَوت آتی ہے
اِس لئے حادِثہ بدلنا ہے
دیکھ کر مُسکرا رہا ہے مُجھے
کیا اُسے رابطہ بدلنا ہے
ہم سَفر تُو نہیں ہُوا تو پِھر
راہ میں قافِلہ بدلنا ہے
مُشکلِیں سَر سے ٹلنے والی ہیں
بس ذرا حوصَلہ بدلنا ہے
یہ کہانی سمجھ نہیں آتی
اَے خُدا ماجرا بدلنا ہے
اب کھڑا ہُوں مَـیں دُوسری جانِب
اِک ذرا زاویہ بدلنا ہے
اُس کے تیور بتاتے ہیں مانیؔ
اَب اُسے راستہ بدلنا ہے
واپس جائیں