تُمہاری آنکھ میں کھِلتے گُلاب دیکھے ہیں
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 225
پسند: 0
تُمہاری آنکھ میں کھِلتے گُلاب دیکھے ہیں
تو خواب ہم نے بھی تازہ جناب دیکھے ہیں
امیرِ شہر کو اِس کی کوئی خبر ہی نہیں
غریبِ شہر نے کِتنے عذاب دیکھے ہیں
ہماری پیاس کی شِدّت ہے اِس قدر یارو
کہ رات خواب میں ہم نے چناب دیکھے ہیں
دیارِ غیر میں لگنے لگا ہے جی اپنا
کُچھ اَپنے جیسے ہی خانہ خراب دیکھے ہیں
وہ جِن کے فِکر و عمل میں تضاد ہوتا ہے
بہت سے ایسے خَطِیب اور خِطاب دیکھے ہیں
دِکھائی دی ہے ریاکاری پارساؤں کی
جو آج ہم نے اُترتے نَقاب دیکھے ہیں
چمکتی دُھوپ میں سایہ ہمارا تھا مانیؔ
ہماری آنکھ نے کِتنے سَراب دیکھے ہیں
واپس جائیں