روشنی کے سِوا اور کیا چاہیئے
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 115
پسند: 0
روشنی کے سِوا اور کیا چاہیئے
کُوزہ گر بس مُجھے اِک دِیا چاہیئے
سانس لینے میں دِقّت نہ ہو ایک پل
غم کے ماروں کو ایسی فَضا چاہیئے
اِن مُضافات میں مُجھ کو رہنا ہے اَب
اِن پہاڑوں کی ٹھنڈی ہَوا چاہیئے
جو کہانی میں مُجھ کو دِکھائی گئی
ہُوبہُو ایسی ہی اَپسرا چاہیئے
کُوچ کرنا پڑے گا تِرے شہر سے
زِندگی کو نیا راستہ چاہیئے
آرزُو ہے یہی چشمِ بے تاب کی
آنکھ بھر کے اُسے دیکھنا چاہیئے
دینے والے نے سب کُچھ دِیا ہے مُجھے
اِس جہاں میں مُجھے اور کیا چاہیئے
بے سبب تو نہیں اُس نے مِلنا مُجھے
اُس سے مِلنے کو بھی مُدّعا چاہیئے
رنگ بھرنے ہیں مانیؔ کہانی میں اب
اِس لئے زِندگی کا پتا چاہیئے
واپس جائیں