سبھی کی جو ضرُورت ہے
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 104
پسند: 0
سبھی کی جو ضرُورت ہے
وہ خُوشبو ہے مَحبّت ہے
سمجھ میں یہ نہیں آتا
دِلوں میں کِیُوں کُدورَت ہے؟
اُنہیں دھونا نمک سے تُم
یہ زخموں کی ضرُورت ہے
بڑی اَنمول ہے اُلفت
جو مِل جائے غنیمت ہے
وہ رِشتوں کو سمجھتا ہے
اُسے پاسِ شریعت ہے
زَمیں پر سانس لینے میں
ابھی تھوڑی سُہولَت ہے
بُرا اَچھّا سمجھ مانیؔ
خُدا نے دِی بَصیرت ہے
واپس جائیں