کیا یہ اُس کا خیال ہے مانیؔ
روشنی حرف حرف اُتری ہے
جگمگاتے ہیں اَب مِرے اَشعار
۔۔۔
تُم مَحبّت کو پُھول کہتے ہو
کبھی تُم نے گُلاب دیکھا ہے
ساتھ ہوتے ہیں اُس کے کانٹے بھی
۔۔۔
ایک لمحہ تِری مَحبّت کا
ایسے مُجھ کو نِکھار دیتا ہے
جیسے قوسِ قزح اُجالے کو
۔۔۔
چہرے سے کوئی لاکھ چھُپائے
دِل کا دَرد چھُپا نہیں رہتا
آنکھیں سب کُچھ کہہ دیتی ہیں