جاتے جاتے بس وہ ایسا بھول گیا
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 132
پسند: 0
جاتے جاتے بس وہ ایسا بھول گیا
میرے دل پہ پتھر رکھنا بھول گیا
۔۔۔
اس کی کھوج میں اتنی دُور نکل آیا
خود میں اپنے گھر کا رستہ بھول گیا
۔۔۔
لے آیا تھا گرچہ پھول محبت کے
لیکن میرے ہاتھ پہ رکھنا بھول گیا
۔۔۔
خواب جو اُس کے میری آنکھ سے اُترے ہیں
بس اس دن سے میں بھی سونا بھول گیا
۔۔۔
آج نقیبؔ ہے دل افسردہ جانے کیوں
لگتا ہے خط اس کو لکھنا بھول گیا
واپس جائیں