ہر طرف ظلم ہے جبر ہے قہر ہے
اور سورج بھی خوں میں نہایا ہوا
ہم نے اپنے لہو کے ہی سیلاب میں
آج اپنے ہی تن کو چھپایا ہوا
۔۔۔
یہ نالے یہ فریاد و سوز و صدا
بے گلی کی طرح روح میں اُترے ہوئے
بے کفن سارے خوابوں کے منظر یہاں
بے بسی کی طرح ہر سُو بکھرے ہوئے
۔۔۔
کس کا دستِ ستم لے اُڑا قہقہے
کس نے لکھ دی دیواروں پہ آہ و بکا
کس نے ہر اک گلی، میں بچھائے ہوئے
یہ نالے یہ فریاد و سوز و صدا
۔۔۔
میں کدھر سے چلوں خون کے سیلاب نے
ہر قدم پہ ہے روکا مرا راستہ
ہر سُو روندی گئی شاخ زیتون کی
میرے گھر میں مَری امن کی فاختہ
۔۔۔
ہر قدم پہ نیا خوف و ڈر، وسوسہ
روح و دل میں رہا ذہن و تن میں رہا
میرے حالات ہیں میری مجبوریاں
بے وطن سا میں اپنے وطن میں رہا