رُوٹھا تو بے حواس بڑی دیر تک رہا
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 182
پسند: 0
رُوٹھا تو بے حواس بڑی دیر تک رہا
پھر بھی مَیں محوِ آس بڑی دیر تک رہا
...
جانا تھا اُس کو مَیں نے بھی روکا نہیں اُسے
لیکن یہ دِل اُداس بڑی دیر تک رہا
...
میں مُسکرا رہا تھا کہ حیرت اُسے بھی تھی
حالاں کہ درد و یاس بڑی دیر تک رہا
...
سمجھا تھا میں کہ میرے محافظ ہیں معتبر
افسوس یہ قیاس بڑی دیر تک رہا
...
حالاں وہ آشنا مِرا مدّت سے تھا مگر
لیکن وہ ناشناس بڑی دیر تک رہا
...
ہر چند وہ شخص عام تھا دُنیا کے واسطے
میرے لئے وہ خاص بڑی دیر تک رہا
...
جانے وہ مجھ کو چھوڑ کے کیسے چلا گیا
یعنی جو غم شناس بڑی دیر تک رہا
واپس جائیں