ہمیں بھُلا کے تُو خوش ہے ذرا پتہ تو چلے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 107
پسند: 0
ہمیں بھُلا کے تُو خوش ہے ذرا پتہ تو چلے
نظر چُرا کے تُو خوش ہے ذرا پتہ تو چلے
...
ہمیں مِلیں نہ مِلیں منزلیں مگر میرے
دِیے بُجھا کے تُو خوش ہے ذرا پتہ تو چلے
...
چلو قبول ہے جاناں ۔۔۔ تماشۂ ہستی
ہمیں بنا کے تُو خوش ہے ذرا پتہ تو چلے
...
چلو ہمیں سے سہی روشنی تو پھیل گئی
ہمیں جلا کے تُو خوش ہے ذرا پتہ تو چلے
...
نظامِ ظلم کے باغی تھے سو ہمارا سر
اگر کٹا کے تُو خوش ہے ذرا پتہ تو چلے
...
وفا کی راہ میں نقشِ نقیبِؔ عشق تھے ہم
ہمیں مِٹا کے تُو خوش ہے ذرا پتہ تو چلے
واپس جائیں