میں کہتا ہوں کہ تُم اپنی مجھے تصویر بھیجو نا! - فاختہ
میں کہتا ہوں کہ تُم اپنی مجھے تصویر بھیجو نا!
عارف پرویز نقیبنظمیںمطالعات: 218پسند: 0
میں کہتا ہوں کہ تُم اپنی مجھے تصویر بھیجو نا!
وہ کہتی ہے کہ روحوں کی بھلا تصویر ہوتی ہے؟
میں کہتا ہوں تری آنکھیں مری آنکھوں میں بستی ہیں
وہ کہتی ہے کہ جھیلوں میں سمندر تو نہیں ہوتے
میں کہتا ہوں مرے سینے سے لگ کے مسکرا دو نا!
وہ کہتی ہے ترے سینے میں دل دھڑکتا ہے
میں کہتا ہوں محبت میں نہیں ہیں دُوریاں اچھی
وہ کہتی ہے کہ اندیشہ ہے قربت میں بچھڑنے کا
میں کہتا ہوں کہ یہ زلفیں مری جاگیر کر دو نا!
وہ کہتی ہے کہ جاگیروں پہ اکثر قتل ہو تے ہیں
میں کہتاہوں چلو مل کر نئی دُنیا بساتے ہیں
وہ کہتی ہے تری صورت میں دُنیا دِل میں بستی ہے
میں کہتا ہوں کہ بارش میں چلو کُچھ دُور چلتے ہیں
وہ کہتی ہے کہ جانا ہے تو بارش کیوں ضروری ہے
میں کہتا ہوں درختوں پہ چلو ہم نام لکھتے ہیں
وہ کہتی ہے درختوں کو تو اک دِن کٹ ہی جانا ہے
بڑی محتاط لڑکی ہے کہ ملتی بھی نہیں مُجھ سے
بڑی چالاک لڑکی ہے بچھڑتی بھی نہیں مُجھ سے