قرض ادا کرنا تھا کر کے لوٹ آیا
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 109
پسند: 0
قرض ادا کرنا تھا کر کے لوٹ آیا
دستک اُس دہلیز پہ دھر کے لوٹ آیا
۔۔۔
نکلا کاروبار میں کرنے ہیروں کا
دامن میں سنگریزے بھر کے لوٹ آیا
۔۔۔
گھر میں چاہت، خوشبو، نغمے ہی نہ تھے
دیکھے جو آثار کھنڈر کے لوٹ آیا
۔۔۔
میں نے ہر آغوش میں خنجر دیکھے ہیں
ماں کے پاس ہی آخر ڈر کے لوٹ آیا
۔۔۔
دل تو تیرے پاس ہے لیکن یار نقیبؔ
جان حوالے کس کے کر کے لوٹ آیا
واپس جائیں