بدلے ہیں جو اِس دَور میں افکار کے معنی
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 110
پسند: 0
بدلے ہیں جو اِس دَور میں افکار کے معنی
باقی نہ رہے کوئی بھی دیوار کے معنی
...
اب طرزِ محبت بھی فقط جسم و ہوس ہے
انکار کے معنی ہیں نہ اقرار کے معنی
...
میں مہر بہ لب ہوں مِری سادگی سمجھو
ہوتے ہیں کئی اَور بھی اظہار کے معنی
...
زندوں کی طرح وقت گزارو تو خبر ہو
مُردوں کو کہاں آتے ہیں دستار کے معنی
...
اے جانِ وفا تُجھ سے فقط اتنا ہے کہنا
آ جائیں تمہیں کاش کہ اغیار کے معنی
واپس جائیں